Home Blog

1 Urdu Love Story of a Poor Man

0


عنوان: “کوئی امید نہیں تھی”

ایک لڑکا جس کا نام بلال تھا۔

اسماء نام کی لڑکی

بلال ایک نوجوان لڑکا تھا جو اپنے والد کے ساتھ ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا تھا

وہ اپنے نرم دل اور مددگار طبیعت کے لیے مشہور تھے

اپنی خراب مالی حالت کے باوجود، بلال کا ہمیشہ مثبت رویہ تھا اور

اسے یقین تھا کہ ایک دن اس کے ساتھ اچھی چیزیں رونما ہوں گی۔

ایک دن بلال کی ملاقات اسماء نام کی ایک خوبصورت لڑکی سے ہوئی

جو اپنے والد کے ساتھ گاؤں آئی تھی

اسماء بلال کے مثبت رویے اور مہربان دل سے مسحور ہو گئیں

وہ جلدی سے دوست بن گئے اور ساتھ وقت گزارنے لگے۔

تاہم عاصمہ کے والد کو ان کی دوستی منظور نہیں تھی۔

اس نے سوچا کہ بلال اپنی بیٹی کےلیے اچھا نہیں ہے اور اس نے اسے دوبارہ ملنے سے منع کردیا۔

عاصمہ دل شکستہ تھی لیکن اپنے والد کی خواہش پر عمل کرتی رہی۔

دن گزرتے گئے اور بلال کے مالی حالات خراب ہوتے گئے۔

اس کے والد بیمار ہو گئے، اور ان کے پاس

اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ طبی اخراجات ادا کر سکیں۔ ایسی سنگین صورتحال میں

بلال کا مثبت رویہ ڈگمگا گیا، اور وہ امید کھو بیٹھا۔

ایک دن اسماء بلال سے ملنے آئی اور اسے اپنے والد کے منصوبے کے بارے میں بتایا

کہ اس کی شادی ایک امیر آدمی سے کر دی جائے گی۔

وہ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن اس کے والد اسے ایسا کرنے پر مجبور کررہے تھے۔

بلال نے عاصمہ کی آنکھوں میں اداسی دیکھ کر اس کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس نے عاصمہ کے والد کے پاس جا کر عاصمہ سے اپنی محبت کے بارے میں بتایا

اور اس سے شادی کے لیے ہاتھ مانگا۔

اسماء کے والد کو صدمہ ہوا

لیکن وہ بلال کی آنکھوں میں سچی محبت دیکھ سکتے تھے اور اس شرط پر

ان کی شادی کے لیے راضی ہو گئے کہ بلال خود کو اسماء کے لیے فراہم کرنے کے قابل ثابت ہوں۔

بلال نے اسے ایک چیلنج کے طور پر لیا اور سخت محنت شروع کر دی۔

اس نے لمبے گھنٹے لگائے اور ان کی مالی حالت کو بہتر بنانے کے لیے سخت محنت کی۔

آہستہ آہستہ لیکن یقینی طور پر، بلال کی محنت رنگ لائی گئی، اور

وہ اپنے والد کے طبی اخراجات کے لیے کافی رقم بچانے اور ایک نئی زندگی شروع کرنے کے قابل ہو گئے۔

اسماء اور بلال کی شادی ہوگئی، اور وہ ہمیشہ خوش و خرم رہنے لگے۔

انہوں نے ثابت کیا کہ محبت تمام رکاوٹوں کو فتح کر سکتی ہے اور عزم اور محنت سے کچھ بھی ممکن ہے

فرشتوں کی دنیا Beautiful World 100%

0


فرشتے اللہ تعالیٰ کی نورانی مخلوق ہیں۔ جنہیں ان کی اصلی شکل و صورت میں دیکھنا انبیاء کرام علیہ الصلاۃ والسلام کے علاوہ کسی اور کے لیے ممکن نہیں۔

فرشتوں

یہی وجہ ہے کہ ہمارے اردگرد لاتعداد فرشتے اپنے کاموں میں مصروف ہیں۔ مگر ہمیں وہ دکھائی نہیں دیتے۔ اگر وہ انسانی شکل اختیار کر کے ہمارے سامنے آئیں۔ تو پھر انہیں دیکھنا ممکن ہے۔ انسان کی نسبت فرشتے عظیم مخلوق ہیں۔ اور ان میں بھی چھوٹے ہیں اور بعض بڑے ہیں۔

فرشتوں کے پر

فرشتوں میں بعض کے دو دو پر ہیں۔ اور بعض کے چھ چھ سو پر ہیں۔ قرآن کریم میں ارشاد پاک ہے کہ اللہ تعالی ہی کے لیے تمام تعریفیں ہیں۔ جو آسمان اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ اور دو دو تین تین چار چار پروں والے فرشتوں کا اپنا قاصد (پیغمبر) بنانے والا ہے۔

بعض روایات کے مطابق جبرائیل امین علیہ السلام کے چھ سو پر دیکھے گئے ہیں۔ اور ہر پر نے آسمان کو گھیر رکھا تھا۔ ان کے پروں سے مختلف رنگ اور قیمتی موتی بکھر رہے تھے۔

فرشتوں کی قد و قامت

وہ فرشتے جنہوں نے عرش اٹھا رکھا ہے۔ ان کے قد و قامت کے بارے میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا عرش کو اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کے بارے میں مجھے یہ بتانے کی اجازت دی گئی ہے۔

جس کے پاؤںسب سے نچلی ساتویں زمین میں ہیں اور اس کے کندھوں پر عرش ہے۔ اس کے دونوں کانوں اور کندھوں کے درمیان اتنی دوری ہے کہ اسے طے کرنے کے لیے پرندے کو سات سو سال کی پرواز چاہیے۔ وہ فرشتہ کہتا ہے یا اللہ تو پاک ہے جہاں بھی ہے اور جہاں بھی ہو۔

فرشتوں کی ضروریات

اللہ تعالی نے فرشتوں میں شادی بیاہ کی حاجت نہیں رکھی۔ اس طرح انہیں کھانے پینے سے بھی بے نیاز کر دیا ہے۔ اس کی وضاحت قرآن مجید میں مذکور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے اس واقعے سے ہوتی ہے۔ جس میں ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس فرشتے آئے۔ تو آپ علیہ السلام ان کے لیے فورا گوشت لے کر آئے۔ مگر انہوں نے اسے تناول نہیں کیا۔

اللہ تعالی نے فرشتوں کو بیماری، سستی، کاہلی، دکھ، تکلیف، تھکاوٹ اور اکتاہٹ وغیرہ سے محفوظ رکھا ہے۔ وہ دن رات فقط اللہ کی اطاعت میں اپنے کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔

قرآن مجید میں بیان ہوا کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے۔ اسی اللہ کا ہے اور جتنے اس کے پاس فرشتے ہیں وہ اس کی عبادت سے نہ سرکشی کرتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں۔ وہ دن رات اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ اور ذرا سی بھی سستی نہیں کرتے۔

فرشتے تقریبا عام طور پر آسمانوں میں رہتے ہیں۔ جو صرف اللہ کے حکم سے مختلف کاموں کے لیے زمین پر اترتے ہیں اور پھر واپس آسمان پر چلے جاتے ہیں۔ قرآن مجید میں ایک اور مقام پر خود فرشتوں کی یہ بات مذکور ہے۔ “ہم تیرے رب کے حکم کے بغیر نہیں اترتے”۔

فرشتوں کی تعداد

فرشتوں کی تعداد کتنی ہے اس کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں ملتی۔ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ بلکہ اندازہ ہوتا ہے کہ انسانوں اور جنوں سے بھی ان کی تعداد زیادہ ہے۔

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آسمانوں میں کہیں چار انگلیاں جگہ بھی ایسی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ سجدہ ریز نہ ہو۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے روز جہنم کو اس حال میں لایا جائے گا کہ اس کی ستر لگامیں ہوں گی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ جو اسے کھینچ کر لا رہے ہوں گے۔

فرشتوں کی ایک اہم خاصیت

فرشتوں کی ایک اہم خاصیت یہ بھی ہے کہ وہ اللہ تعالی کے حکم سے اپنی شکل و صورت کے علاوہ کوئی اور صورت بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ یہ صورت کسی ایسے انسان کی بھی ہو سکتی ہے۔ جسے دیکھنے والے پہچان لیں۔

انسانوں کے علاوہ کسی اور جاندار کی صورت اختیار کرنے کی فرشتوں کو طاقت ہے یا نہیں۔ اس کے بارے میں قرآن و سنت میں کوئی صراحت یا ذکر نہیں ملتا۔ البتہ ان کی انسانی شکل اختیار کرنے کے واقعات ضرور ملتے ہیں۔ جن سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ فرشتے اللہ تعالی کے حکم سے دیگر شکلیں بھی اختیار کر سکتے ہیں۔

سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس فرشتے انسانی شکل میں آئے اور ابراہیم علیہ السلام ان فرشتوں کو پہچان نہ پائے۔ پھر فرشتوں کے بتانے پر آپ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ یہ انسان نہیں ہیں بلکہ فرشتے ہیں۔

سیدہ مریم علیہ السلام کے پاس جبرائیل امین علیہ السلام انسانی شکل میں تشریف لائے تھے۔ اور جبریل امین علیہ السلام سوائے دو مرتبہ کے ہر مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس انسانی شکل میں تشریف لائے۔

فرشتوں کی طاقت

اللہ تعالی نے فرشتوں کو انسانوں اور جنوں سے کئی گنا زیادہ قوت و طاقت عطا کر رکھی ہے۔ حضور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب طائف کے مقام پر وہاں کے لوگوں کو اسلام کی دعوت پیش کی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وہاں کے لوگوں نے ظلم و جبر کی انتہا کر دی اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لہو لہان کر دیا۔

تو اس مقام پر سیدنا جبرائیل امین علیہ السلام تشریف لائے۔ انہوں نے آواز دی اور کہا کہ اللہ تعالی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں آپ کی قوم کی باتیں سن چکا ہے۔ جو انہوں نے آپ کے خلاف اقدام کیا۔ وہ بھی دیکھ چکا ہے۔ آپ کے پاس اللہ تعالی نے پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے۔ آپ ان لوگوں کے بارے میں جو چاہیں۔ اس فرشتے کو حکم دیں۔

اس کے بعد پہاڑوں کا فرشتہ مخاطب ہوا اس نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا۔ پھر عرض کی اے اللہ کے رسول آپ جو حکم دیں گے۔ میں اس کی تعمیل کروں گا۔ اگر آپ چاہیں تو میں دونوں طرف کے پہاڑوں کو ان پر لا کر ملا دوں۔ جن سے یہ پس جائیں گے۔

اسی طرح جبرائیل امین علیہ السلام کی قوت و طاقت کے بارے میں قرآن مجید میں ہے۔ انہیں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زبردست طاقت والے فرشتے نے سکھایا ہے جو زور آور ہے۔

فرشتوں کا نظم وضبط

فرشتے اپنے ہر کام میں نظم و ضبط کی پابندی کرتے ہیں۔ جس میں کسی قسم کی کمی بیشی یا سستی اور کاہلی وغیرہ کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ جن فرشتوں کی جب اور جہاں ڈیوٹی شروع ہوتی ہے۔ وہ اس وقت وہاں پہنچ جاتے ہیں اور اسے احسن طریقے سے سر انجام دیتے ہیں۔

فرشتوں کی موت

جس طرح انسانوں کی پیدائش اور موت کے مختلف مراحل ہوتے ہیں۔ فرشتوں کے لیے یہ مراحل نہیں ہیں یعنی دنیا میں نئے انسان پیدا ہوتے ہیں اور پہلے موجود انسان فوت ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس جب اللہ تعالی نے فرشتوں کو پیدا کیا ہے۔ تب سے وہ زندہ ہیں اور قیامت قائم ہونے تک جب تک اللہ پاک چاہیں گے وہ زندہ رہیں گے۔

تب تک اللہ تعالی کی طرف سے انہیں جو ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ انہیں احسن طریقے سے وہ پورا کرتے رہیں گے۔ لیکن جب قیامت آئے گی۔ تو یہ فرشتے بھی موت سے دوچار ہوں گے۔ پھر ایک ایسا وقت آئے گا جب کائنات میں اللہ تعالی کے علاوہ کوئی چیز زندہ نہ رہے گی۔

اسی صورتحال کو قرآن مجید میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ زمین پر جو ہیں سب فنا ہونے والے ہیں۔ صرف تیرے رب کی ذات جو عظمت اور عزت والی ہے۔ وہی باقی رہ جائے گی۔ اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد ہواکہ ہر نفس کو مرنا ہے

you want to use free tool so click here:

Margin Calculator

100% real قوم سبا پر اللہ کے عذاب کا واقعہ

1

قوم سبا

قوم سبا


اہل سرسار کی ایک قوم جسے قوم سبا بھی کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالی کی بے شمار نعمتوں کے اندر زندگی گزار رہی تھی۔ یہ قوم ایک عظیم تہذیب و تمدن کی مالک تھی۔
حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی باعظمت حکومتوں کے بعد ان کی حکومت زبان زد خاص و عام تھی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ گندم کے مغز سے آٹا پس کر روٹیاں پکاتے تھے۔

لیکن اس ے برعکس وہ اس قدر اصراف کرنے والے اور ناشکرے تھے کہ انہی روٹیوں کے ساتھ بچوں کا پاخانہ صاف کرتے تھے۔ بعد ازاں ان آلودہ روٹیوں کو اکٹھا کرنے سے ایک پہاڑ بن گیا تھا۔

پھر ایک صالح شخص نے وہاں سے گزرتے ہوئے ایک عورت کو دیکھا۔ جو روٹی کے ساتھ بچے کے پاخانے کے مقام کو صاف کر رہی تھی۔ اس شخص نے عورت سے کہا تیرے اوپر افسوس۔

خدا سے ڈر کہیں ایسا نہ ہو کہ خدا تیرے اوپر اپنا غضب ڈھائے اور تجھ سے اپنی نعمت چھین لے۔ اس عورت نے جواب میں مذاق اڑایا اور مغرورانہ انداز میں کہا جاؤ جاؤ۔ گویا کہ مجھے بھوک سے ڈرا رہے ہو۔ جب تک سرسار جاری ہے مجھے بھوک سے کسی قسم کا کوئی خوف نہیں ہے۔

کوئی زیادہ عرصہ نہیں گزرا نہ تھا کہ اللہ تعالی نے ان لوگوں پر اپنا غضب ڈھایا۔ پانی جو کہ زندگی کی بنیاد ہے، ان لوگوں سے چھین لیا۔ یہاں تک کہ قحط نازل ہوا۔ بات یہاں تک پہنچ گئی کہ ان کی ذخیرہ کی ہوئی تمام غذا ختم ہوگئی۔

آخر کار وہ مجبور ہوگئے کہ انہیں آلودہ روٹیوں پر ٹوٹ پڑے۔ جو ان لوگوں نے اکٹھی کر کے پہاڑ کے مانند ڈھیر لگایا ہوا تھا۔ بلکہ وہاں سے روٹی لینے کے لیے صف لگتی۔ تاکہ ہر کوئی وہاں سے اپنے حصے کی روٹی لے سکے۔

کفران نعمت قحط اور ان کی بدحالی کے بارے میں متعدد روایات موجود ہیں۔ سورہ نحل کی آیت نمبر ایک سو بارہ اور ایک سو تیرہ میں یوں ارشاد ہوتا ہے۔

اور اللہ نے اس بستی کی بھی مثال بیان کی ہے۔ جو محفوظ اور مطمئن تھی۔ اس کا رزق ہر طرف سے باقاعدہ آ رہا تھا۔ لیکن اس بستی کے رہنے والوں نے اللہ کی نعمتوں کا انکار کیا۔ تو خدا نے انہیں بھوک اور پیاس کا مزہ چکھایا۔ صرف ان کے ان اعمال کی بنا پر کہ جو وہ انجام دے رہے تھے۔

اور یقینا ان کے پاس رسول آیا۔ تو ان لوگوں نے ان کو جھٹلایا۔ تو پھر ان تک عذاب آ پہنچا کہ یہ سب ظلم کرنے والے تھے۔

اسی قوم سبا کے بارے میں ایک اور واقعہ بیان ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے اپنی زراعت کو بہتر طور پر کاشت کرنے کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کی خاطر، بلق کے دو پہاڑوں کے درمیان ایک بہت بڑا بند معرب تعمیر کیا ہوا تھا۔

سوراخ اور دوسرے پہاڑوں سے گزرا ہوا پانی اس بند میں آ کر وافر مقدار میں جمع ہو جاتا تھا۔ قوم سبا نے اس پانی سے صحیح طور پر استفادہ کرتے ہوئے وسیع و عریض اور بہت سے خوبصورت باغات لگائے اور کھیتی باڑی کو رونق بخشی۔

ان باغات کے درختوں کی شاخیں اس قدر پھلوں سے لدی ہوئی ہوتی تھیں کہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص سر پر ٹوکری رکھ کر ان کے نیچے سے گزرتا تو پھل خود بخود ٹوکری میں گرنا شروع ہو جاتے اور قلیل مدت میں ٹوکری تازہ پھلوں سے بھر جاتی۔

لیکن نعمتوں کی کثرت نے انہیں شکر کرنے کے بجائے سرمست اور غافل کر دیا تھا۔ یہاں تک کہ ان کے درمیان بہت بڑا طبقاتی نظام وجود میں آ چکا تھا۔ ان میں سے صاحب اقتدار لوگوں نے کمزوروں اور ضعیفوں کا خون چوسنا شروع کر رکھا تھا۔

یہاں تک کہ ان لوگوں نے خدا سے ایک احمکانہ التماس کیا۔ جس کا ذکر سورہ سبا کی آیت نمبر انیس میں ملتا ہے۔

انہوں نے کہا خدایا ہمارے سفروں کے درمیان فاصلہ زیادہ کر دے۔

انہوں نے اللہ تعالی سے یہ التماس اس لیے کیا تاکہ غریبوں بے نواح لوگوں، عمرہ اور ثروت مند ان کے ہمراہ سفر نہ کریں۔ ان کی خواہش یہ تھی کہ آبادیوں کے درمیان خشکی ہو اور فاصلہ بہت زیادہ ہو۔ تاکہ تہی دست اور کم آمدنی والے لوگ ان کی طرح سفر نہ کر سکیں۔

اللہ تعالی نے ان مغرور پیٹ کے پجاریوں پر اپنا غضب نازل کیا۔ بعض روایتوں کے مطابق ان مغرور لوگوں کی آنکھوں سے دور صحرائی چوہوں نے معرب نامی بند کی دیواروں پر حملہ کر کے انہیں اندر سے کھوکھلا کر دیا۔

ادھر سے بارشیں زیادہ ہوئیں۔ جن کی وجہ سے سیلاب آگیا اور اس بند میں پانی بہت زیادہ اکٹھا ہو گیا۔ اچانک بند کی دیواریں ٹوٹیں اس سے ایک بہت بڑا سیلاب آیا۔ جس میں تمام دیہات, آبادیاں, مال مویشی, باغات, کھیتیاں, ان کے محل اور گھر پانی میں غرق ہو کر نابود ہو گئے۔

ان کے باغات اور زراعت میں سے صرف بیری کے درخت اور کچھ جھاڑیاں بچی تھیں۔ خوش الہان پرندے وہاں سے کوچ کر گئے تھے۔ جبکہ الوؤں اور کوؤں نے قوم سبا کے کھنڈرات میں اپنے گھونسلے بنا تھے۔ اس بات کا ذکر سورہ صبا کی آیت نمبر پندرہ اور سولہ میں ملتا ہے۔ اور آخر میں سورہ صبا کی آیت نمبر سترہ میں قرآن کریم میں اس واقعہ کا یوں نتیجہ نکالا ہے۔

 یہ ہم نے ان کی ناشکری کی سزا دی ہے اور ہم نا شکروں کے علاوہ کسی کو سزا نہیں دیتے ہیں”

And you want to you free tool So Click Here name:

Favicon Generator

اکیلے نہیں: پردیس میں 1 تنہائی سے دوستی تک کی ایک دل کو چھو لینے والی کہانی

1

اکیلے نہیں

اکیلے نہیں


جب ڈیلیسے صرف آٹھ سال کی تھی تو اس کی ماں نے اسے بتایا کہ وہ اپنا گھر چھوڑ کر انگلینڈ چلے جائیں گے۔

ڈیلیسے کی والدہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، ‘آپ کے والد کو کام تلاش کرنا چاہیے تاکہ ہم آپ کے دادا دادی اور آپ کی آنٹی کی کفالت کے لیے رقم بھیج سکیں۔’

نوجوان لڑکی منیلا میں اپنا گھر چھوڑنا نہیں چاہتی تھی جو کہ فلپائن کا ایک بہت بڑا شہر ہے اور جب اس کی والدہ نے اسے یہ خبر سنائی تو اسے بہت دکھ ہوا۔

‘لیکن میرے تمام دوستوں کا کیا ہوگا؟’ ڈیلیسے نے پوچھا۔ ‘میں انگلینڈ میں کسی کو نہیں  جانتی اور میں اکیلی ہوں گی۔’

اس کی والدہ نے ڈیلیسے کو یقین دلایا کہ یہ ان تینوں کے لیے ایک دلچسپ مہم جوئی والی بات ہونے والی ہے اور جب  وہ انگلینڈ میں اسکول شروع  کرے گی تو ڈیلیسے بہت سے نئے دوستوں سے ملے گی۔ ڈیلیسے کو اپنی ماں کے مہربان الفاظ پر یقین نہیں آیا۔

اسے اپنا گھر پسند تھا اور وہ اسکول جانا پسند کرتی تھی جہاں وہ تمام اساتذہ کو جانتی تھی اور اس کے بہت سے دوست پہلے سے ہی تھے۔

‘مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ ہمیں انگلینڈ کیوں جانا پڑے گا،’ ڈیلیسے نے ایک رات پہلے سوچاجب خاندان نے جانا تھا۔ ‘میں انگلینڈ کے بارے میں کچھ نہیں جانتی۔ مجھے انگریزی بھی زیادہ نہیں آتی اور میں بالکل اکیلی ہو جاؤں گی!’

اس آخری احساس نے نوجوان لڑکی کو مزید اداس کر دیا اور اس نے دل سے خواہش کی کہ وہ منیلا میں اپنی آنٹی یا اپنے دادا دادی کے ساتھ رہ سکے۔

سفر بہت لمبا تھا اور ڈیلیسے بڑے ہوائی جہاز اور ہوائی اڈے پر بھاگنے والے تمام لوگوں سے مغلوب تھی۔

جب خاندان آخر کار انگلینڈ پہنچا تو سب کچھ عجیب سا لگ رہا تھا اور اسے یقین تھا کہ ہر کوئی اس کی طرف دیکھ رہا ہے۔ برمنگھم کے شہر کی عمارتیں بڑی اور سرمئی تھیں اور ڈیلیسے کو گھرجیسا بالکل بھی محسوس نہیں ہوتا تھا۔

پہلا مہینہ اچانک گزر گیا جب خاندان کو رہنے کے لیے ایک گھر مل گیا اور ڈیلیسے کے والد کام کی تلاش میں باہر گئے تاکہ وہ فلپائن میں باقی خاندان کو پیسے واپس بھیج سکیں۔

نوجوان لڑکی بہت اکیلی تھی، اور اگرچہ اس کی ماں اس کے ساتھ کھیل کھیلتی تھی اور اسے ادھر ادھر گھمانے کے لیے باہر لے جاتی تھی، ڈیلیسے اپنے دوستوں کو بہت یاد کرتی تھی اور یہ محسوس کرنے میں  اپنے آپ کو نہیں روک سکتی تھی کہ وہ نئے شہر میں بالکل اکیلی ہے۔

رات کو وہ اپنے بستر پر روتی رہتی تھی اور وہ اکثر خواب دیکھتی تھی کہ اگلے دن اس کے والد اسے جگائیں گے اور بتائیں گے کہ وہ گھر لوٹنے والے ہیں۔ لیکن ہر صبح ڈیلیسے بیدار ہوئی اور اسے احساس  ہوتا کہ شاید وہ پھر کبھی گھر واپس نہیں جائے گی۔

ایک صبح، جب وہ دودھ کے ساتھ اناج کا عجیب سا ناشتہ کھا رہی تھی – سینانگگ کے اس کے معمول کے ناشتے کی طرح کچھ بھی نہیں جو مزیدار انڈوں سے بنے چاول تھے، ڈیلیسے کو معلوم ہوا کہ وہ اسکول جانے والی ہے۔

اس کی ماں نے کہا،’ یہ آپ کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور نئے دوستوں سے ملنا بہت اچھا ہوگا۔’

لیکن ڈیلیسے یہ خبر سن کر خوش نہیں ہوئی ۔ اسے گھر واپسی پر اپنے دوستوں کی یاد آتی تھی، اور اگرچہ وہ گھر سے زیادہ باہر نکلنا چاہتی تھی، لیکن وہ اسکول جانے سے ڈرتی تھی کیونکہ وہ کسی کو نہیں جانتی تھی۔

ڈیلیسے نے بہت سارے بچوں کو دیکھا تھا جب اس نے اور اس کی والدہ نے برمنگھم شہر کی سیر کی تھی، لیکن کسی نے بھی اس سے بات نہیں کی تھی اور وہ زیادہ انگریزی نہیں بولتی تھی جس کے بارے میں اسے معلوم تھا کہ اسے اسکول میں مشکل پیش آئے گی۔

جب صبح ہوئی، ڈیلیسے نے یہ بہانہ کرنے کی کوشش کی کہ اسے بخار ہے اور وہ اسکول کے لیے بہت بیمار ہے، لیکن اس کی ماں ہمیشہ بتا سکتی تھی کہ ڈیلیسے کب ڈرامہ کر رہی تھی اور اس لیے اسے کپڑے پہننے اور اپنا ناشتہ کرنے پر مجبور کیا گیا۔

ڈیلیسے اور اس کی ماں اسکول کے دروازے تک ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چلتی رہیں جہاں ان کی ملاقات مسز مری نامی ایک  استانی سے ہوئی۔  استانی بہت ملنسار تھی اور اس نے ڈیلیسے کا اسکول میں خیرمقدم کیا اور اس کی والدہ کو بتایا کہ وہ تین بجے دوبارہ آکر اپنی بیٹی کو واپس لے سکتی ہیں۔

صبح ایک دھندلے انداز میں گزری جب ڈیلیسے کا تعارف مزید اساتذہ اور بہت سارے بچوں سے ہوا جنہوں نے مسکرا کر ہیلو کہا۔ ڈیلیسے کو بہت کچھ سمجھ نہیں آیا کہ اس سے کیا کہا گیا لیکن یہ سمجھایا گیا کہ دوپہر کو وہ دوسرے بچوں کے ساتھ ایک خصوصی کلاس میں جائے گی جو پوری دنیا سے انگلینڈ منتقل ہوئے تھے۔

جب ڈیلیسے بعد میں اس دوپہر کو کلاس روم میں پہنچی تو اس نے دروازہ کھٹکھٹایا اوراندر چلی گئی۔ اجنبیوں سے ملنے کے اتنے لمبے دن سے وہ بہت نروس تھی اور بہت تھک بھی گئی تھی۔ لیکن جب وہ اندر آئی تو مسز محمود نے بڑی مسکراہٹ کے ساتھ  اس کا استقبال کیا جو پاکستان سے تھیں۔

دوستانہ بنے چاول تھے نے کہا، ‘ڈیلیسے اندر آؤ۔’ آج ہم ایک کتاب پڑھ رہے ہیں جس کا نام پُس اِن بوٹس ہے اور بعد میں ہم کچھ گیمز کھیلیں گے اور پینٹنگ کریں گے۔’

نوجوان لڑکی نے دیکھا کہ کلاس روم میں موجود تمام بچے ایک دوسرے سے بہت مختلف تھے۔ ایک لڑکا زمبابوے سے اور دو لڑکیاں پولینڈ سے تھیں۔ البانیہ کی ایک بڑی لڑکی تھی اور ایک لڑکا جو ڈیلیسے سے بھی چھوٹا تھا جس نے کہا کہ وہ ایران سے ہے۔ اور اسے حیران کرنے کی بات یہ ہے کہ کلاس روم کے پچھلے حصے میں پُس اِن بوٹس کی ایک کاپی ہاتھ میں پکڑے کالیا نامی ایک نوجوان لڑکی بیٹھی تھی، جو کہ فلپائن کی تھی!

‘یہاں آؤ اور میرے پاس بیٹھو!’ کالیا نے کہا، جو ڈیلیسے کی طرح حیران تھی۔

دونوں لڑکیاں فوری دوست بن گئیں کیونکہ کالیا نے پُس اِن بوٹس کی کہانی کے بارے میں اور بتایا کہ انہوں نے مسز محمود کے ساتھ اپنی انگلش کو کیسے بہتر بنانا سیکھا جو پوری دنیا کی بہترین ٹیچر تھیں۔

اس دوپہر، ڈیلیسے نے کلاس میں ہر ایک بچے سے بات کی، اور اگرچہ وہ  ہر دفعہ یہ نہیں سمجھ پاتی تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، لیکن وہ ایک بات یقینی طور پر جانتی تھی: تمام بچے نئی زندگی شروع کرنے کے لیے انگلینڈ آئے تھے، اور اگرچہ کبھی کبھی کسی نئی جگہ پر ہونا خوفناک ہوتا تھا جہاں آپ زبان نہیں بولتے تھے،

وہاں ہمیشہ کوئی نہ کوئی آس پاس ہوتا جو مدد کرتا۔ اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ دنیا میں کہاں گئے ہیں، آپ کو ہمیشہ ایک دوست ملے گا۔ ڈیلیسے کو تب احساس ہوا کہ وہ کبھی تنہا نہیں ہو گی۔ انگلینڈ اس کا نیا گھر تھا اور وہ اس سے بہترین فائدہ اٹھانے والی تھی

اکیلے نہیں سبق

کیلا پن ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا۔ نئی جگہیں، نئے لوگ اور نئے تجربات کبھی کبھی ہماری زندگی کے بہترین موڑ ثابت ہوتے ہیں۔ ڈیلیسے نے ایک اجنبی دنیا میں دوستی، محبت اور اعتماد کے رنگ دیکھے۔ یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ چاہے ہم دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں — ہم کبھی اکیلے نہیں ہوتے۔

And you can be use this tool so on the tool name:

Word counter

Readabitity

💖 Love Poetry – When Words Speak the 2 Language of the Heart

1

Look, love — a feeling so deep, yet often so difficult to express (from what i understand). That’s where love poetry comes in.

But wait, there’s more. For centuries, poets have turned to verses to express their most intimate emotions — from burning desire and longing to gentle affection and eternal commitment.

At dailyquote.xyz, we celebrate the timeless beauty of love poetry — in both english and urdu — to help you find the right words for your feelings.

At least, that’s how I see things.

💌 What is Love Poetry?

The way I see it, in my experience, the way i see it, look, listen, from what i’ve seen, love poetry is a literary expression of love, passion, heartbreak, or emotional connection – you know what i mean?.

You might be wondering, let me explain – and i mean really. And get this – it captures the highs and lows of relationships, giving voice to what the heart feels but the tongue can’t always say – you know what i mean? (trust me on this).

Now, here’s where it gets interesting: let me explain – and i mean really. But wait, there’s more. What’s fascinating is whether it’s a sonnet from shakespeare or a ghazal by mirza ghalib, love poetry has always been a bridge between souls (from what i understand).

But wait, there’s more. Here’s where it gets interesting: and get this – but hey, what do i know? Make of that what you will.

💘 Why Do We Love… Love Poetry?

If I’m being honest, if you ask me, the way i see it, you know, here’s why love poems touch us deeply:

universal emotion: everyone experiences love in some form — romantic, familial, spiritual, or even unrequited.

Emotional healing: poetry helps us process joy, sadness, heartbreak, and hope (from what i understand). Let me explain.

Romantic expression: it’s the perfect way to express feelings to your loved one.

Artistic beauty: rhymes, metaphors, and imagery make love poetry magi – and i mean really

🌹 Famous English Love Poems

Beautiful love poetry image for romantic emotions

How do I love thee? Let me count the ways.

I carry your heart with me (I carry it in my heart)

Love is composed of a single soul inhabiting two bodies.

🕊️ Timeless Urdu Love Poetry (عشق کی شاعری)

محبت وہ خزانہ ہے، جو دل میں چھپایا جاتا ہے،
نہ تولا جا سکتا ہے، نہ خریدا جا سکتا ہے۔

چپ چاپ رہتی ہے، مگر سب کچھ کہہ جاتی ہے،
محبت، الفاظ کی نہیں، احساس کی زبان ہے۔

وہ لمحہ ہی کافی تھا، جب نظریں ملی تھیں،
عمر بھر کی محبت کا آغاز وہیں سے ہوا تھا۔

💞 How You Can Use Love Poetry

  • 💬 Share on social media to inspire or confess your love
  • 💌 Write in letters or messages to your partner
  • 🖼️ Use as captions for romantic photos
  • 📜 Add in wedding vows or proposals
  • 🧘 Reflect during moments of solitude or heartbreak

📝 Final Thoughts

Love poetry reminds us that love is not just a feeling — it’s a language. A language written in rhyme, rhythm, and raw emotion. Whether you’re in love, healing from it, or dreaming of it — there’s a poem waiting to speak to your heart.

At DailyQuote.xyz, we’re proud to bring you daily love quotes, poetry, and Urdu shayari that touches the soul. Keep visiting for your daily dose of romance and reflection.